شکوہ

0
کيوں زياں کار بنوں ، سود فراموش رہوں
فکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوں
نالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں
ہم نوا ميں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں
جرات آموز مری تاب سخن ہے مجھ کو
شکوہ اللہ سے ، خاکم بدہن ، ہے مجھ کو
ہے بجا شيوۂ تسليم ميں مشہور ہيں ہم
قصہ درد سناتے ہيں کہ مجبور ہيں ہم
ساز خاموش ہيں ، فرياد سے معمور ہيں ہم
نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہيں ہم
اے خدا! شکوۂ ارباب وفا بھی سن لے
خوگر حمد سے تھوڑا سا گلا بھی سن لے
تھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قديم
پھول تھا زيب چمن پر نہ پريشاں تھی شميم
شرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عميم
بوئے گل پھيلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسيم
ہم کو جمعيت خاطر يہ پريشانی تھی
ورنہ امت ترے محبوب کی ديوانی تھی؟
ہم سے پہلے تھا عجب تيرے جہاں کا منظر
کہيں مسجود تھے پتھر ، کہيں معبود شجر
خوگر پيکر محسوس تھی انساں کی نظر
مانتا پھر کوئی ان ديکھے خدا کو کيونکر
تجھ کو معلوم ہے ، ليتا تھا کوئی نام ترا؟
قوت بازوئے مسلم نے کيا کام ترا
بس رہے تھے يہيں سلجوق بھی، تورانی بھی
اہل چيں چين ميں ، ايران ميں ساسانی بھی
اسی معمورے ميں آباد تھے يونانی بھی
اسی دنيا ميں يہودی بھی تھے ، نصرانی بھی
پر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نے
بات جو بگڑی ہوئی تھی ، وہ بنائی کس نے
تھے ہميں ايک ترے معرکہ آراؤں ميں
خشکيوں ميں کبھی لڑتے ، کبھی درياؤں ميں
ديں اذانيں کبھی يورپ کے کليساؤں ميں
کبھی افريقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں ميں
شان آنکھوں ميں نہ جچتی تھی جہاں داروں کی
کلمہ پڑھتے تھے ہم چھاؤں ميں تلواروں کی
ہم جو جيتے تھے تو جنگوں کے مصيبت کے ليے
اور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے ليے
تھی نہ کچھ تيغ زنی اپنی حکومت کے ليے
سربکف پھرتے تھے کيا دہر ميں دولت کے ليے؟
قوم اپنی جو زر و مال جہاں پر مرتی
بت فروشی کے عوض بت شکنی کيوں کرتی
ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ ميں اڑ جاتے تھے
پاؤں شيروں کے بھی ميداں سے اکھڑ جاتے تھے
تجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھے
تيغ کيا چيز ہے ، ہم توپ سے لڑ جاتے تھے
نقش توحيد کا ہر دل پہ بٹھايا ہم نے
زير خنجر بھی يہ پيغام سنايا ہم نے
تو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خيبر کس نے
شہر قيصر کا جو تھا ، اس کو کيا سر کس نے
توڑے مخلوق خداوندوں کے پيکر کس نے
کاٹ کر رکھ ديے کفار کے لشکر کس نے
کس نے ٹھنڈا کيا آتشکدہ ايراں کو؟
کس نے پھر زندہ کيا تذکرہ يزداں کو؟
کون سی قوم فقط تيری طلب گار ہوئی
اور تيرے ليے زحمت کش پيکار ہوئی
کس کی شمشير جہاں گير ، جہاں دار ہوئی
کس کی تکبير سے دنيا تري بيدار ہوئی
کس کی ہيبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھے
منہ کے بل گر کے ‘ھو اللہ احد’ کہتے تھے
آ گيا عين لڑائی ميں اگر وقت نماز
قبلہ رو ہو کے زميں بوس ہوئی قوم حجاز
ايک ہی صف ميں کھڑے ہو گئے محمود و اياز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
بندہ و صاحب و محتاج و غني ايک ہوئے
تيری سرکار ميں پہنچے تو سبھی ايک ہوئے
محفل کون و مکاں ميں سحر و شام پھرے
مے توحيد کو لے کر صفت جام پھرے
کوہ ميں ، دشت ميں لے کر ترا پيغام پھرے
اور معلوم ہے تجھ کو ، کبھی ناکام پھرے
دشت تو دشت ہيں ، دريا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحر ظلمات ميں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے
صفحہ دہر سے باطل کو مٹايا ہم نے
نوع انساں کو غلامی سے چھڑايا ہم نے
تيرے کعبے کو جبينوں سے بسايا ہم نے
تيرے قرآن کو سينوں سے لگايا ہم نے
پھر بھی ہم سے يہ گلہ ہے کہ وفادار نہيں
ہم وفادار نہيں ، تو بھی تو دلدار نہيں
امتيں اور بھی ہيں ، ان ميں گنہ گار بھی ہيں
عجز والے بھی ہيں ، مست مۓ پندار بھی ہيں
ان ميں کاہل بھی ہيں، غافل بھی ہيں، ہشيار بھی ہيں
سينکڑوں ہيں کہ ترے نام سے بيزار بھی ہيں
رحمتيں ہيں تری اغيار کے کاشانوں پر
برق گرتی ہے تو بيچارے مسلمانوں پر
بت صنم خانوں ميں کہتے ہيں ، مسلمان گئے
ہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئے
منزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئے
اپنی بغلوں ميں دبائے ہوئے قرآن گئے
خندہ زن کفر ہے ، احساس تجھے ہے کہ نہيں
اپنی توحيد کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہيں
يہ شکايت نہيں ، ہيں ان کے خزانے معمور
نہيں محفل ميں جنھيں بات بھی کرنے کا شعور
قہر تو يہ ہے کہ کافر کو مليں حور و قصور
اور بيچارے مسلماں کو فقط وعدہ حور
اب وہ الطاف نہيں ، ہم پہ عنايات نہيں
بات يہ کيا ہے کہ پہلی سی مدارات نہيں
کيوں مسلمانوں ميں ہے دولت دنيا ناياب
تيری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حساب
تو جو چاہے تو اٹھے سينۂ صحرا سے حباب
رہرو دشت ہو سيلی زدۂ موج سراب
طعن اغيار ہے ، رسوائی ہے ، ناداری ہے
کيا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہے؟
بنی اغيار کی اب چاہنے والی دنيا
رہ گئی اپنے ليے ايک خيالی دنيا
ہم تو رخصت ہوئے ، اوروں نے سنبھالی دنيا
پھر نہ کہنا ہوئی توحيد سے خالی دنيا
ہم تو جيتے ہيں کہ دنيا ميں ترا نام رہے
کہيں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے ، جام رہے
تيری محفل بھی گئی ، چاہنے والے بھی گئے
شب کے آہيں بھی گئيں ، صبح کے نالے بھی گئے
دل تجھے دے بھی گئے ، اپنا صلا لے بھی گئے
آ کے بيٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئے
آئے عشاق ، گئے وعدۂ فردا لے کر
اب انھيں ڈھونڈ چراغ رخ زيبا لے کر
درد ليلی بھی وہی ، قيس کا پہلو بھی وہی
نجد کے دشت و جبل ميں رم آہو بھی وہی
عشق کا دل بھی وہی ، حسن کا جادو بھی وہی
امت احمد مرسل بھی وہی ، تو بھی وہی
پھر يہ آزردگی غير سبب کيا معنی
اپنے شيداؤں پہ يہ چشم غضب کيا معنی
تجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑا؟
بت گری پيشہ کيا ، بت شکنی کو چھوڑا؟
عشق کو ، عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑا؟
رسم سلمان و اويس قرنی کو چھوڑا؟
آگ تکبير کی سينوں ميں دبی رکھتے ہيں
زندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہيں
عشق کی خير وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہی
جادہ پيمائی تسليم و رضا بھی نہ سہی
مضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہی
اور پابندی آئين وفا بھی نہ سہی
کبھي ہم سے ، کبھی غيروں سے شناسائی ہے
بات کہنے کی نہيں ، تو بھی تو ہرجائی ہے
سر فاراں پہ کيا دين کو کامل تو نے
اک اشارے ميں ہزاروں کے ليے دل تو نے
آتش اندوز کيا عشق کا حاصل تو نے
پھونک دی گرمی رخسار سے محفل تو نے
آج کيوں سينے ہمارے شرر آباد نہيں
ہم وہی سوختہ ساماں ہيں ، تجھے ياد نہيں؟
وادی نجد ميں وہ شور سلاسل نہ رہا
قيس ديوانہ نظارہ محمل نہ رہا
حوصلے وہ نہ رہے ، ہم نہ رہے ، دل نہ رہا
گھر يہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہا
اے خوش آں روز کہ آئی و بصد ناز آئی
بے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئی
بادہ کش غير ہيں گلشن ميں لب جو بيٹھے
سنتے ہيں جام بکف نغمہ کو کو بيٹھے
دور ہنگامہ گلزار سے يک سو بيٹھے
تيرے ديوانے بھی ہيں منتظر ‘ھو’ بيٹھے
اپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دے
برق ديرينہ کو فرمان جگر سوزی دے
قوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجاز
لے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پرواز
مضطرب باغ کے ہر غنچے ميں ہے بوئے نياز
تو ذرا چھيڑ تو دے، تشنۂ مضراب ہے ساز
نغمے بے تاب ہيں تاروں سے نکلنے کے ليے
طور مضطر ہے اسی آگ ميں جلنے کے ليے
مشکليں امت مرحوم کی آساں کر دے
مور بے مايہ کو ہمدوش سليماں کر دے
جنس ناياب محبت کو پھر ارزاں کر دے
ہند کے دير نشينوں کو مسلماں کر دے
جوئے خوں می چکد از حسرت ديرينۂ ما
می تپد نالہ بہ نشتر کدہ سينہ ما
بوئے گل لے گئی بيرون چمن راز چمن
کيا قيامت ہے کہ خود پھول ہيں غماز چمن
عہد گل ختم ہوا ٹوٹ گيا ساز چمن
اڑ گئے ڈاليوں سے زمزمہ پرواز چمن
ايک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تک
اس کے سينے ميں ہے نغموں کا تلاطم اب تک
قمرياں شاخ صنوبر سے گريزاں بھی ہوئيں
پےتاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پريشاں بھی ہوئيں
وہ پرانی روشيں باغ کی ويراں بھی ہوئيں
ڈالياں پيرہن برگ سے عرياں بھی ہوئيں
قيد موسم سے طبيعت رہی آزاد اس کی
کاش گلشن ميں سمجھتا کوئی فرياد اس کی
لطف مرنے ميں ہے باقی ، نہ مزا جينے ميں
کچھ مزا ہے تو يہی خون جگر پينے ميں
کتنے بے تاب ہيں جوہر مرے آئينے ميں
کس قدر جلوے تڑپتے ہيں مرے سينے ميں
اس گلستاں ميں مگر ديکھنے والے ہی نہيں
داغ جو سينے ميں رکھتے ہوں ، وہ لالے ہی نہيں
چاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوں
جاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوں
يعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوں
پھر اسی بادۂ ديرينہ کے پياسے دل ہوں
عجمی خم ہے تو کيا ، مے تو حجازی ہے مری
نغمہ ہندی ہے تو کيا ، لے تو حجازی ہے مری
Share.